Monday, 28 September 2015

لندن: قادیانی عبادتگاہ آگ کی لپیٹ میں

لندن میں موجود قادیانیوں کی عبادت گاہ کو آگ لگ گئی

لندن میں موجود قادیانیوں کے عبادتخانے کو آگ لگ گئی ۔ مزید تفصیلات یہاں سے ملاحظہ فرمائیں

مکمل تحریر >>

Wednesday, 23 September 2015

پراسرار اندھا

پراسرار اندھا

ایک اندھا بھکاری تھا جو اپنی آنکھیں چھپائے رکھتا تھا۔ اس کا سوال کرنے کا انداز بہت عجیب تھا وہ لوگوں کو کہتا جو مجھے کچھ دے گا اس کو بہت عجیب بات بتاؤں گا اور جو مجھے زیادہ دے گا اس کو ایک عجیب چیز بھی دکھاؤں گا۔
ابواسحٰق ابراھیمؒ فرماتے ہیں کسی نے اس کو کچھ دیا تو میں اس کے پاس کھڑا ہو گیا ۔ اس نے اپنی آنکھیں دکھائیں میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی آنکھوں کی جگہ دو سوراخ تھے۔ جس سے آر پار نظر آتا تھا۔ اب اس نے اپنی داستان حیرت نشان سنانی شروع کی ۔
میں اپنے شہر کا نامی گرامی کفن چور تھا اور لوگ مجھ سے بے حد خوفزدہ تھے۔ اتفاق سے شہر کا قاضی (یعنی جج) بیمار پڑ گیا۔ اس کو جب اپنے بچنے کی امید نہ رہی تو اس نے مجھے سو دینا بھجواکر کہلا بھیجا کہ میں ان سو دیناروں کے ذریعہ اپنا کفن تجھ سے محفوظ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے حامی بھرلی۔
اتفاقا وہ تندرست ہو گیا۔ مگر کچھ عرصے کے بعد پھر بیمار ہو کر مرگیا۔ میں نے سوچا کہ وہ عطیہ تو پہلے مرض کا تھا۔ لہذا میں نے اس کی قبر کھود ڈالی قبر میں عذاب کے آثار تھے اور قاضی جج قبر میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کے بار بکھرے ہوئے اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
اچانک میں نے اپنے گھٹنوں میں درد محسوس کیا اور اچانک کسی نے میری آنکھوں میں انگلیاں گھونپ کر مجھے اندھا کر دیا اور کہا ۔۔۔۔ اے دشمنِ خدا! اللہ تعالی کے بھیدوں پر کیوں مطلع ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!! (شرح الصدور، واقعات کا خزانہ ص21)
مکمل تحریر >>

Tuesday, 22 September 2015

بدن پر کلمہ

بدن پر کلمہ

ابونصر فتح بن شحرف نہایت ہی زاہد اور پارسا محدث تھے تیس برس تک روٹی نہیں کھائی۔ چند پھل پھول کھاتے رہے اور تیس برس تک کبھی سر اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ایک دن بے اختیار آسمان کی طرف سر اٹھ گیا تو ایک دم منہ سے یہ دعا نکل پڑی۔ الٰہی اب تیرا اشتیاق میرے لیے ناقابل برداشت ہو چکا لہذا توں جلد مجھے اپنے دربار میں بلا لے اس کے بعد ہی آپ کا وصال ہو گیا۔ محمدبن جعفر کا بیان ہے کہ جب ہم لوگوں نے انہیں غسل دینے کے لیے ان کے کپڑوں کو اتارا تو ان کے بدن پر لاالہ الااللہ لکھا ہوا تھا ہم لوگوں نے سمجھا کہ کسی نے قلم سے لکھ دیا ہو گا مگر جب غور سے دیکھا تو وہ حروف سیاہ رنگ کی رگیں تھیں جو ان کے گوشت کے اندر پیوست تھیں ، بغداد کے اندر ان کی وفات ہوئی تو اہل بغداد کا فرط عقیدت سے ان کے جنازہ پر اتنا ہجوم ہوا کہ تینتیس مرتبہ لوگوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور سب سے چھوٹی جماعت جس نے ان کے جنازہ پر نماز پڑھی ان کی تعداد پچیس سے تیس ہزار تھی۔
(واقعات کا خزانہ ص 144)
مکمل تحریر >>

نقلی جنازہ، اصلی بن گیا

نقلی جنازہ، اصلی بن گیا

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ مشہور بزرگ ہیں آپ نے ہندوستان میں سب سے بڑے دینی مدرسے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں چند دیہاتی لوگ حاضر ہوئے اور عرض کی حضرت ہم غریب لوگ ہیں اور ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں۔ اور ہمارے گاؤں میں رافضی بھی بہت زیادہ ہیں ۔ یہ لوگ مالدار بھی ہیں اور اپنے مذہب کی تبلیغ بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے گاؤں کے کئی کم سن گمراہ ہو کر رافضی بن گئے ہیں ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ جب کبھی ہمارے گاؤں کے قریب سے گزریں تو وہاں ضرور تشریف لائیں ۔اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں تاکہ وہ گمراہی سے بچ جائیں۔ حضرت نانوتویؒ نے جواب دیا بھائی میں آپ لوگوں کے گاؤں میں انشاءاللہ ضرور آؤں گا۔ چند دن بعد حضرت نانوتویؒ کا اس علاقہ میں صفر ہوا تو آپ اس گاؤں میں بھی تشریف لے گئے۔ گاؤں کے رافضیوں کو جب معلوم ہوا کہ یہاں اتنے بڑے عالم آرہے ہیں تو وہ سوچنے لگے کہ یوں ان کی ساری محنت رائیگاں چلی جائے گی اور غریب سنیوں کو ان کے مذہب کی حقیقت پتا چل جائے گی۔ چنانچہ ان لوگوں نے مل کر یہ منصوبہ بنایا کہ جب مولانا قاسم نانوتویؒ گاؤں میں آئیں اور ان کا بیان شروع ہو تو رافضیوں کے چار آدمی وہاں جا کر بیٹھ جائیں۔ بیان شروع ہونے کے فورا بعد ہی چاروں آدمی مولانا نانوتویؒ سے دس دس سوال کریں یوں مولانا صاحب ان سوالوں کے جواب دینے میں الجھ جائیں گے اور ان کا سارا بیان ضائع ہو جائے گا۔ حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ نے بیان شروع کیا تو منصوبے کے مطابق چاروں رافضی کھڑے ہو گئے اور سب نے اپنے اپنے دس دس سوال داغ دیئے۔ مولانا قاسم نانوتویؒ نے بہت اطمینان کے ساتھ یہ سوال سنے اور پھر بڑے خوبصورت انداز میں ان میں سے ہر ایک سوال کا ایسا زبردست جواب دیا کہ سننے والے حیران رہ گئے اور رافضیوں کا تو بُرا حال ہو گیا۔ وہ جل بُھن اٹھے کہ ان کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا اور مولانا صاحب کے بیان سے گاؤں کے سارے سنی سیدھے راستے پر آگئے۔ اب رافضیوں کو ایک اور شرارت سوجھی انہوں نے منصوبہ بنایا کہ مولانا صاحب کا گاؤں میں ایسا مذاق اڑایا جائے کہ ان کی خوب بدنامی ہو جائے یہ سوچ کر انہوں نے آپس میں کہا کہ ایک لڑکے کو چارپائی پر لیٹا کر اوپر چادر ڈال دیتے ہیں اور مولانا صاحب سے کہتے ہیں کہ ہمارا لڑکا مر گیا ہے۔ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں پھر جب مولانا صاحب جنازے کی نماز کے لیے تکبیر کہیں گے تو وہ لڑکا چادر اتار کر اٹھ کھڑا ہو گا۔ یوں مولانا صاحب کا خوب تماشہ بنے گا۔ اس منصوبے کے مطابق رافضیوں نے ایک لڑکے کو چارپائی پر لٹایا اس پر چادر ڈالی اور پھر یہ نقلی جنازہ اٹھا کر مولانا صاحبؒ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے مولانا صاحب ہمارا یہ لڑکا اچانک فوت ہو گیا ہے برائے مہربانی آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں ۔ مولاناصاحبؒ نے فرمایا ارے بھئی! یہ کیسے ہو سکتا ہے ہمارا نماز پڑھنے کا طریقہ الگ ہے اور آپ کا الگ ہے میں کیسے آپ کے لڑکے کی نماز جنازہ پڑھا سکتا ہوں ؟ رافضی کہنے لگے نہیں حضرت بس آپ پڑھا ہی دیں ہماری یہی خواہش ہے جب ان لوگوں نے بہت ہی اصرار کیا تو مولانا صاحبؒ نے فرمایا کہ چلو ٹھیک ہے پڑھا دیتے ہیں اور یہ کہہ کر آپ اس نقلی جنازے کے پاس تشریف لے گئے اس وقت آپ شدید غصے میں تھے اور چہرے پر ناراضگی کے اثرات تھے، جب لوگوں نے صفیں باندھ لیں تو مولاناؒ نے نماز جنازہ شروع کرا دی۔ چار میں سے دو تکبیریں ہوئیں اور چار پائی پر لیٹے ہوئے لڑکے نے کوئی حرکت نہ کی تو ایک رافضی نے "ہوں" کی آواز نکالی اس کا مقصد یہ تھاکہ لڑکا اب اٹھ کھڑا ہو یہ آواز سن کر مولاناؒ نے سلام پھیر دیا اور فرمایا اب یہ لڑکا قیامت سے پہلے نہیں اٹھ سکے گامولانا کی یہ بات سن کر رافضی بہت حیران ہوئے وہ جلدی سے آگے بڑھے اور لڑکے کے اوپر سے چادر ہٹا دی تب انہوں نے دیکھا کہ لڑکا تو واقعہ ہی مرچکا ہے۔ یہ دیکھ کر سب رافضی رونے پیٹنے لگے کہ ہائے یہ کیا ہو گیا۔ لڑکا تو زندہ تھا پھر اچانک مر کیسے گیا؟ جب رونا دھونا کم ہوا اور انہیں ہوش آیا تو سمجھ میں آیا کہ یہ تو انہیں مولانا قاسم نانوتویؒ کو تنگ کرنے کی سزا ملی ہے چنانچہ بہت سارے رافضی مولانا قاسم نانوتویؒ کی خدمت میں آئے، ان سے معافی مانگی اور ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔

اس تحریر کو ختم نبوت فورم پر یہاں سے پڑھیں
مکمل تحریر >>

شہادت کے بعد کشمیری مجاہد زندہ ہو گیا

شہادت کے بعد کشمیری مجاہد زندہ ہو گیا

یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر میں ہوا۔ جو حافظ طاہر منصور کوایک مجاہد نے سنایا کہ کپواڑہ کا رہنے والا مجاہد جہاد میں شامل ہو گیا۔ اس کا باپ پہلے ہی شہید ہو چکا تھا۔ گھر میں اس کی بہنیں اور والدہ تھیں۔
یہ مجاہدہفتے میں ایک یا دو بار گھر کا چکر لگاتا تھا۔ کچھ عرصہ بعد سوپور میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں شہید ہو گیا۔ اس کے ساتھی مجاہد مقامی حالات خراب ہونے کی وجہ سے اس کے گھر شہادت کی اطلاع نہ کرسکے۔
لیکن بعد میں حالات سازگار ہو گئے تو ساتھی مجاہدین اس کے گھر شہادت کی خبر دینے گئے جب اس کی ماں کو بتایا کہ آپ کا بیٹا اتنے دن پہلے سوپور کے ایک معرکے میں شہید ہو گیا ہے تو اس کی ماں کہنے لگی کہ میرا بیٹا تو پہلے کبھی کبھی آتا ہے ۔ اب تو وہ ہر روز مجھے ملنے آتا ہے ۔ مجاہدین بہت حیران ہوئے اور پھر بتایا کہ آپ کا لخت جگر شہید ہو گیا ہے اور سوپور میں شہداء کے قبرستان میں دفن ہے مجاہدین جب واپس آئے تو پھر اس دن کے بعد شہیدؒ اپنے گھر نہیں آئے۔
مکمل تحریر >>

مکۃُ المکرمہ میں ایک ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی

مکۃُ المکرمہ میں ایک ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی

مکہ (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 21ستمبر 2015 ء) مکہ مکرمہ میں عازمین حج کے ایک اور ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مکہ مکرمہ میں 15 منزلہ ہوٹل میں آگ بھڑک جس کے بعد وہاں قیام پذیر 1500 عازمین حج کو باحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا۔ حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم 4 افراد کو معمولی زخم آئے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہوٹل میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تھی۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند روز میں عازمین حج کے ہوٹل میں آگ لگنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔


مکمل تحریر >>

Monday, 21 September 2015

کتے کی وہ دس صفات جن میں سے کوئی ایک صفت انسان اپنا لے تو ولی بن جائے ۔

کتے کی وہ دس صفات جن میں سے کوئی ایک صفت انسان اپنا لے تو ولی بن جائے ۔

حیوان اپنے مالک کا فرماں بردار ہوتا ہے جبکہ انسان اتنا اپنے پروردگار کا فرماں بردار نہیں ہے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرمایا کرتے تھے کہ کتے کے اندر دس صفات ہیں کہ اگر ان میں سے ایک صفت بھی انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ ولی بن سکتا ہے ۔ 
1- کتے کے اندر قناعت ہوتی ہے جو مل جائے یہ اسی پر قناعت کر لیتا ہے راضی ہو جاتا ہے ، یہ قانعین یا صابرین کی علامت ہے
2- کتا اکثر بھوکا رہتا ہے ۔ یہ صالحین کی علامت ہے
3- کوئی دوسرا کتا اس پر زور کی وجہ سے غالب آجائے تو یہ اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جاتا ہے یہ راضیین کی علامت ہے
4- کتے کا مالک اگر اس کو مارے تو وہ اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا یہ صادقین کی علامت ہے
5- اگر کتے کا مالک بیٹھا کھانا کھا رہا ہو تو یہ باوجود طاقت اور قوت کے اس سے کھانا نہیں چھینتا یہ مساکین کی علامت ہے
6- جب مالک اپنے گھر میں ہو تو یہ دور جوتوں کے پاس جاکر بیٹھ جاتا ہے ۔ ادنی جگہ پر راضی ہو جاتا ہے یہ متواضعین کی علامت ہے
7- دنیا میں رہنے کے لیے اس کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا یہ متوکلین کی علامت ہے۔
8- رات کو یہ کم سوتا ہے یہ محبین کی علامت ہے 
9- اگر اس کا مالک اسکو مارے تو یہ تھوڑی دیر کے لیے دور چلا جاتا ہے۔ اور اگر اس کا مالک اس کو دوبارہ روٹی ڈالے تو یہ دوبارہ آکر کھا لیتا ہے ۔ اس سے ناراض نہیں ہوتا۔ یہ خاشعین کی علامت ہے
10- جب مرتا ہے تو اس کی کوئی میراث نہیں ہوتی یہ زاہدین کی علامت ہے۔ 
غور کریں کہ ان میں سے کتنی صفات کے ہم مالک ہیں
۔
ہم نے تو جہنم کو بہت کی تدبیر
لیکن تیری رحمت نے گوارا نہ کیا


مکمل تحریر >>

Sunday, 20 September 2015

مائیکل جیکسن کی بہن نے اسلام قبول کر لیا۔

مائیکل جیکسن کی بہن نے اسلام قبول کر لیا۔

لاس اینجلس: امریکی پاپ گلوکارانجہانی مائیکل جیکسن کی بہن ہالی وڈ گلوکارہ جینٹ جیکسن نے اسلام قبول کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ 49 سالہ جینٹ جیکسن نے 2012ء میں 40 سالہ مسلمان ارب پتی وسام المنا سے شادی کی تھی جس سے وہ اتنی متاثر ہوئیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا اور نا زیبا ملبوسات زیب تن کرنا چھوڑ دیے۔
گلوکارہ جینٹ جیکسن نے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں کہا کہ انھوں نے اپنے فیملی ارکان کو بھی بتایا ہے جنھوں نے ان کے نئے انتخاب کا مکمل طور پر احترام کیا ہے۔ جینٹ جیکسن اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت صرف کرتی ہیں۔ دریں اثناء انھوں نے آئی ہارٹ ریڈیو میوزک فیسٹیول میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔
برطانوی اخبار ’’دی سن‘‘ نے امریکی گلوکارہ کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جینٹ جیکسن دائرہ اسلام میں داخل ہو کر بہت پرسکون اور مطمئن ہو گئیں ہیں جب کہ نازیبا ڈانس اور جنسی میوزک سے بہت دور ہو چکی ہیں۔
اخبار ’’دی سن ‘‘ نے مزید بتایا ہے کہ جینٹ جیکسن نے یہاں تک کہ انشاء اللہ کہتے ہوئے اپنا ’’Unbreakable‘‘ میوزک ورلڈ ٹور شوز بھی ترک کردیے ہیں۔ مزید برآں جینٹ جیکسن نے رواں ویک اینڈ پر ہونے والے آئی ہارٹ ریڈیو میوزک فیسٹیول کو بھی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب لاس ویگاس ’’ریویو جرنل ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق کان میں کسی مسئلے کیو جہ سے وہ میوزک فیسٹیول میں نہیں جا سکتی۔ واضح رہے کہ بھائی مائیکل جیکسن کے علاوہ لا ٹویا جیکسن‘ ریبی جیکسن ان کی بہنیں جب کہ جرمین جیکسن‘ رینڈی جیکسن ان کے بھائیوںمیں شامل ہیں ان کے علاوہ جینٹ جیکسن کے اور بھی بھائی ہیں۔


مکمل تحریر >>

Friday, 18 September 2015

خیبر پختونخوا کے تعلیمی نصاب میں ختم نبوت کا مضمون لازمی قرار، مفتی فضل غفور کی قرار داد منظور

خیبر پختونخوا کے تعلیمی نصاب میں ختم نبوت کا مضمون لازمی قرار

جے یو آئی کے ایم پی اےخیبر پختونخوا اسمبلی مفتی فضل غفور صاحب کی قرارداد کا آفیشل نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔جس کی رو سےآئندہ سال سے خیبر پختونخوا کے تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کا مضمون سکول، کالج اور یونیورسٹی کے نصاب میں لازمی ہوگا
نوٹیفکیشن جاری

مکمل تحریر >>

قادیانی ہاؤس(از قلم: @انیلہ فہد)

قادیانی ہاؤس

(از قلم: @انیلہ فہد )
کچھ دن پہلے میرا چھوٹا بھائی گھر آیا تو ایک بڑی سی پلیٹ اس کےہاتھ میں تھی ۔۔۔ جب وہ گھر آیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو اس نے وہ پلیٹ میری جانب بڑھا دی ۔۔۔ جب میں نے اس پلیٹ کو دیکھ کر پڑھا تو حیران رہ گئی ۔ اس پلیٹ پر لکھا ہوا تھا
"قادیانی ہاؤس"
میں نے غصہ میں پوچھا کہ کیا یہ تم باھر دروازےپر لگاؤ گے ؟؟؟ تو بھائی ہنس پڑا ۔۔۔ اور کافی دیر ہنسنے کے بعد بولا ۔۔۔۔ کہ نہیں یہ باھر کے دروازے پر نہیں بلکہ لیٹرین کے دروازے پر لگاؤں گا۔۔۔ ؟؟ 
چنانچہ وہ پلیٹ لیٹرین کے دروازے پر لگا دی گئی ۔۔۔ اب کل ہمارے ریلیٹوز ہمارے پاس آئے تو میری کزن جب باتھ روم جانے لگی تو بولی کہ یہ کیا ہے؟؟؟ تو میں نے اس کو پھر ساری بات بتائی کہ قادیانیوں کے نبی لیٹرین میں مرے تھے ۔۔۔ اس لیے ہم نے لیٹرین کا نام قادیانی ہاؤس رکھ دیا ہے۔۔۔ یہ سن کر وہ بھی ہنسی سے نڈھال ہو گئی۔۔۔۔

اب جب بھی کوئی باتھ روم جانے لگے تو یہی کہتا ہے کہ میں قادیانی ہاؤس جا رہا ہوں ۔۔۔۔

مرزا قادیانی کی موت کیسے ہوئی؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل تحریر >>

ماتلی میگھواڑ، بھیل اور کولہی خاندان کے 100 افراد نے اسلام قبول کر لیا

ماتلی میگھواڑ، بھیل اور کولہی خاندان کے 100 افراد نے اسلام قبول کر لیا

خبر یہاں سے پڑھیں
روزنامہ اسلام 18 ستمبر 2015

مکمل تحریر >>

مدارس میں دہشتگردی نہیں بلکہ امن سکھایا جاتا ہے، جرمن سفارتکار کا بیان

مدارس میں امن سکھایا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ دھشتگردی کی تعلیم ہر گز نہیں دی جاتی ۔۔۔ جرمن سفارتکار کا بیان
مزید خبر یہاں سے پڑھیں۔
روزنامہ اسلام 18 ستمبر 2015

مکمل تحریر >>